آخر چراغ درد محبت بجھا دیا

فضیل جعفری

آخر چراغ درد محبت بجھا دیا

فضیل جعفری

MORE BYفضیل جعفری

    آخر چراغ درد محبت بجھا دیا

    سر سے کسی کی یاد کا پتھر گرا دیا

    ڈھونڈے جنم جنم بھی تو دنیا نہ پا سکے

    یوں ہم نے اس کو اپنی غزل میں چھپا دیا

    خوشبو سے اس کی جسم کی آنگن مہک اٹھا

    کمرے کو اس نے اپنی ہنسی سے سجا دیا

    یہ کس کے انتظار میں جھپکی نہیں پلک

    یہ کس نے مجھ کو راہ کا پتھر بنا دیا

    کیا کم ہے جعفریؔ کہ مشینوں کے شور نے

    لوگوں کو اپنے آپ سے ملنا سکھا دیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY