آخری ٹیس آزمانے کو

ادا جعفری

آخری ٹیس آزمانے کو

ادا جعفری

MORE BY ادا جعفری

    آخری ٹیس آزمانے کو

    جی تو چاہا تھا مسکرانے کو

    یاد اتنی بھی سخت جاں تو نہیں

    اک گھروندا رہا ہے ڈھانے کو

    سنگریزوں میں ڈھل گئے آنسو

    لوگ ہنستے رہے دکھانے کو

    زخم نغمہ بھی لو تو دیتا ہے

    اک دیا رہ گیا جلانے کو

    جلنے والے تو جل بجھے آخر

    کون دیتا خبر زمانے کو

    کتنے مجبور ہو گئے ہوں گے

    ان کہی بات منہ پہ لانے کو

    کھل کے ہنسنا تو سب کو آتا ہے

    لوگ ترسے ہیں اک بہانے کو

    ریزہ ریزہ بکھر گیا انساں

    دل کی ویرانیاں جتانے کو

    حسرتوں کی پناہ گاہوں میں

    کیا ٹھکانے ہیں سر چھپانے کو

    ہاتھ کانٹوں سے کر لیے زخمی

    پھول بالوں میں اک سجانے کو

    آس کی بات ہو کہ سانس اداؔ

    یہ کھلونے تھے ٹوٹ جانے کو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY