عام رستے سے ہٹ کے آیا ہوں

اورنگ زیب

عام رستے سے ہٹ کے آیا ہوں

اورنگ زیب

MORE BY اورنگ زیب

    عام رستے سے ہٹ کے آیا ہوں

    ساری دنیا سے کٹ کے آیا ہوں

    میری وسعت تجھے ڈرا دیتی

    اپنے اندر سمٹ کے آیا ہوں

    کوئی تازہ ستم کہ میں پچھلے

    حادثوں سے نمٹ کے آیا ہوں

    ہاں محبت تو مار دیتی ہے

    یہ کہانی میں رٹ کے آیا ہوں

    میری حالت سے ماپ رستے کو

    میں کہاں سے پلٹ کے آیا ہوں

    راہ غم اب ڈرا نہیں سکتی

    غم سے ہی تو لپٹ کے آیا ہوں

    اس کی شاخوں پہ پھل نہیں لگتا

    جس شجر سے میں کٹ کے آیا ہوں

    کوئی صورت نہیں ہے جڑنے کی

    اتنے ٹکڑوں میں بٹ کے آیا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY