Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آنا بھی آنے والے کا افسانہ ہو گیا

انوری جہاں بیگم حجاب

آنا بھی آنے والے کا افسانہ ہو گیا

انوری جہاں بیگم حجاب

MORE BYانوری جہاں بیگم حجاب

    آنا بھی آنے والے کا افسانہ ہو گیا

    دشمن کے کہنے سننے سے کیا کیا نہ ہو گیا

    کیا فیضیاب صحبت رندانہ ہو گیا

    دم بھر میں شیخ ساقیٔ مے خانہ ہو گیا

    سنتے ہیں بند پھر در مے خانہ ہو گیا

    دور ایاغ‌ و شغل مل افسانہ ہو گیا

    ملنے کے بعد بیٹھ رہا پھیر کر نگاہ

    ظالم یگانہ ہوتے ہی بیگانہ ہو گیا

    اپنوں سے بھی زیادہ جو پایا نیاز مند

    وہ بے نیاز اور بھی بیگانہ ہو گیا

    نا آشنا رہا تو یگانہ بنا رہا

    ہوتے ہی آشنا کوئی بیگانہ ہو گیا

    مانا کہ مدعی سے کوئی مدعا نہ تھا

    پھر کیا سبب تھا ترک جو یارانہ ہو گیا

    کس طرح اپنی خانہ خرابی عیاں کرے

    وہ دل جو پردے والوں کا کاشانہ ہو گیا

    آنے کا وعدہ کر کے وہ ہنستے ہوئے چلے

    معلوم ابھی سے لطف قدیمانہ ہو گیا

    جان اس دلاوری سے ترے منچلے نے دی

    مقتل میں شور ہمت مردانہ ہو گیا

    پھر بھی سوال وصل کا موقع نہیں ملا

    سو بار گو کلام کلیمانہ ہو گیا

    وہ دل‌ جلا تھا میں کہ تری شمع حسن پر

    جل کر نثار صورت پروانہ ہو گیا

    مجنوں جو بن گیا کسی لیلیٰ ادا کا میں

    پھر کیا تھا نجد خود مرا ویرانہ ہو گیا

    گیسو بنائے جائیے آپ اپنے شوق سے

    ہو جانے دیجئے جو میں دیوانہ ہو گیا

    پی لی حجابؔ ہاتھ ہی سے آج میں نے مے

    چلو مرا مرے لئے پیمانہ ہو گیا

    مأخذ :
    • کتاب : Pathan Shayraat ka Tazkira (Pg. 121)
    • Author : Khan Mohammad Atif
    • مطبع : Khan Mohammad Atif (1983)
    • اشاعت : 1983
    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے