آنکھ دکھلانے لگا ہے وہ فسوں ساز مجھے

یگانہ چنگیزی

آنکھ دکھلانے لگا ہے وہ فسوں ساز مجھے

یگانہ چنگیزی

MORE BYیگانہ چنگیزی

    آنکھ دکھلانے لگا ہے وہ فسوں ساز مجھے

    کہیں اب خاک نہ چھنوائے یہ انداز مجھے

    کیسے حیراں تھے تم آئینے میں جب آنکھ لڑی

    آج تک یاد ہے اس عشق کا آغاز مجھے

    سامنے آ نہیں سکتے کہ حجاب آتا ہے

    پردۂ دل سے سناتے ہیں وہ آواز مجھے

    تیلیاں توڑ کے نکلے سب اسیران قفس

    مگر اب تک نہ ملی رخصت پرواز مجھے

    پر کتر دے ارے صیاد چھری پھیرنا کیا

    مار ڈالے گی یوں ہی حسرت پرواز مجھے

    زیر دیوار صنم قبر میں سوتا ہوں فلک

    کیوں نہ ہو طالع بیدار پر اب ناز مجھے

    بے دھڑک آئے نہ زنداں میں نسیم وحشت

    مست کر دیتی ہے زنجیر کی آواز مجھے

    پردۂ ہجر وہی ہستئ موہوم تھی یاسؔ

    سچ ہے پہلے نہیں معلوم تھا یہ راز مجھے

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل,

    فصیح اکمل

    آنکھ دکھلانے لگا ہے وہ فسوں ساز مجھے فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے