آنکھ کے نام کر رہا ہے ہمیں
شامل جام کر رہا ہے ہمیں
مسکرا کر خرید لو ہم کو
درد نیلام کر رہا ہے ہمیں
یار توبہ کرو بھلے اور ہم
کوئی بدنام کر رہا ہے ہمیں
دل میں بسنے کی کس لیے ٹھانی
کیوں در و بام کر رہا ہے ہمیں
روز چہرہ بگڑتا جاتا ہے
آئنہ خام کر رہا ہے ہمیں
حرف پوشیدگی بھی اب اظہرؔ
طشت از بام کر رہا ہے ہمیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.