آنکھ کو جکڑے تھے کل خواب عذابوں کے

فرحت شہزاد

آنکھ کو جکڑے تھے کل خواب عذابوں کے

فرحت شہزاد

MORE BYفرحت شہزاد

    آنکھ کو جکڑے تھے کل خواب عذابوں کے

    میں سیراب کھڑا تھا بیچ سرابوں کے

    تجھ کو کھو کر مجھ پر وہ بھی دن آئے

    چھپ نہ سکا دکھ پیچھے کئی نقابوں کے

    فکر کا تن کب ڈھانپ سکی مدہوشی تک

    چھوڑ دیے نشوں نے ہاتھ شرابوں کے

    عمر انہی کے ساتھ گزاری ہے جاناں

    زخم مجھے لگتے ہیں پھول گلابوں کے

    ایک سوال نے جب سے مجھ کو پہنا ہے

    شرمندہ ہیں سارے رنگ جوابوں کے

    کس سے پوچھوں میں رستہ اب تجھ گھر کا

    منہ تکتے ہیں خالی ورق کتابوں کے

    جانے پھر کب وقت یہ پل دہرائے گا

    لگ جا سینے توڑ کے بند حجابوں کے

    ملک میں میرے امن کی خواہش جان من

    بکری جیسے بیچ میں سو قصابوں کے

    ختم نہیں شہزادؔ فقط تجھ پر تخلیق

    ہم بھی پیارے خالق ہیں کچھ خوابوں کے

    مأخذ :
    • کتاب : Aaina Jhuta hai (Pg. 30)
    • Author : Farhat Shahzad
    • مطبع : Al-hamd Publication (1997)
    • اشاعت : 1997

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے