آنکھ رکھے ہوئے ستارے پر

احمد سجاد بابر

آنکھ رکھے ہوئے ستارے پر

احمد سجاد بابر

MORE BYاحمد سجاد بابر

    آنکھ رکھے ہوئے ستارے پر

    کشتیاں جا لگیں کنارے پر

    وقت پڑنے پہ آزما لینا

    جان دے دیں گے اک اشارے پر

    موڑ پر اس نے مڑ کے دیکھا تھا

    جی رہے ہیں اسی سہارے پر

    جھیل آنکھوں میں سرمگیں آنسو

    چاند بے خود تھا اس نظارے پر

    لب و رخسار آتشیں اس کے

    شبنمی رقص تھا شرارے پر

    اوٹ میں پھر چھپا لیا ماں نے

    لاش ماں کی گری دلارے پر

    شہر سارا چھتوں پہ تھا بابرؔ

    چاند اترا تھا پھر چوبارے پر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY