آنکھیں ہیں جوش اشک سے پنگھٹ

مصحفی غلام ہمدانی

آنکھیں ہیں جوش اشک سے پنگھٹ

مصحفی غلام ہمدانی

MORE BYمصحفی غلام ہمدانی

    آنکھیں ہیں جوش اشک سے پنگھٹ

    اشک پھرتے ہیں ان میں جیسے رہٹ

    میں نہ سمجھا تھا خوب تیرے تئیں

    ہے تو مطرب پسر بڑا نٹ کھٹ

    پی گئے ہم صراحیٔ مے کو

    دست ساقی سے لیتے ہی غٹ غٹ

    تیرا تیر نگہ ہے وہ کافر

    منہ سے اک دم جدا تو کر گھونگٹ

    سمجھے تھے مار آپ دیکھی تھی

    آئینے میں کسی کی زلف کی لٹ

    جس کو کہتے ہیں عرصۂ ہستی

    توسن عمر کی ہے اک سرپٹ

    مصحفیؔ اس کے رخ پہ خط آیا

    گئے وے دن گئی وہ رت ہی پلٹ

    جم کے بیٹھے نہ تھا جہاں کوئی

    رات دن اب رہے ہے واں جمگھٹ

    مآخذ
    • کتاب : kulliyat-e-mas.hafii(Vol-4)(pdf) (Pg. 101)
    • Author : Ghulam hamdani Mashafi
    • مطبع : Qaumi council baraye -farogh urdu (2005)
    • اشاعت : 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY