آنکھیں جن کو دیکھ نہ پائیں سپنوں میں بکھرا دینا

رئیس فروغ

آنکھیں جن کو دیکھ نہ پائیں سپنوں میں بکھرا دینا

رئیس فروغ

MORE BYرئیس فروغ

    آنکھیں جن کو دیکھ نہ پائیں سپنوں میں بکھرا دینا

    جتنے بھی ہیں روپ تمہارے جیتے جی دکھلا دینا

    رات اور دن کے بیچ کہیں پر جاگے سوئے رستوں میں

    میں تم سے اک بات کہوں گا تم بھی کچھ فرما دینا

    اب کی رت میں جب دھرتی کو برکھا کی مہکار ملے

    میرے بدن کی مٹی کو بھی رنگوں میں نہلا دینا

    دل دریا ہے دل ساگر ہے اس دریا اس ساگر کی

    ایک ہی لہر کا آنچل تھامے ساری عمر بتا دینا

    ہم بھی لے کو تیز کریں گے بوندوں کی بوچھار کے ساتھ

    پہلا ساون جھولنے والو تم بھی پینگ بڑھا دینا

    فصل تمہاری اچھی ہوگی جاؤ ہمارے کہنے سے

    اپنے گاؤں کی ہر گوری کو نئی چنریا لا دینا

    یہ مرے پودے یہ مرے پنچھی یہ مرے پیارے پیارے لوگ

    میرے نام جو بادل آئے بستی میں برسا دینا

    ہجر کی آگ میں اے ری ہواؤ دو جلتے گھر اگر کہیں

    تنہا تنہا جلتے ہوں تو آگ میں آگ ملا دینا

    آج دھنک میں رنگ نہ ہوں گے ویسے جی بہلانے کو

    شام ہوئے پر نیلے پیلے کچھ بیلون اڑا دینا

    آج کی رات کوئی بیراگن کسی سے آنسو بدلے گی

    بہتے دریا اڑتے بادل جہاں بھی ہوں ٹھہرا دینا

    جاتے سال کی آخری شامیں بالک چوری کرتی ہیں

    آنگن آنگن آگ جلانا گلی گلی پہرا دینا

    اوس میں بھیگے شہر سے باہر آتے دن سے ملنا ہے

    صبح تلک سنسار رہے تو ہم کو جلد جگا دینا

    نیم کی چھاؤں میں بیٹھنے والے سبھی کے سیوک ہوتے ہیں

    کوئی ناگ بھی آ نکلے تو اس کو دودھ پلا دینا

    تیرے کرم سے یارب سب کو اپنی اپنی مراد ملے

    جس نے ہمارا دل توڑا ہے اس کو بھی بیٹا دینا

    مآخذ:

    • کتاب : raat bahut havaa chalii (Pg. 26(pdf))

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY