آنکھیں کھلی تھیں سب کی کوئی دیکھتا نہ تھا

صوفی تبسم

آنکھیں کھلی تھیں سب کی کوئی دیکھتا نہ تھا

صوفی تبسم

MORE BYصوفی تبسم

    آنکھیں کھلی تھیں سب کی کوئی دیکھتا نہ تھا

    اپنے سوا کسی کا کوئی آشنا نہ تھا

    یوں کھو گیا تھا حسن ہجوم نگاہ میں

    اہل نظر کو اپنی نظر کا پتا نہ تھا

    دھندلا گئے تھے نقش محبت کچھ اس طرح

    پہچانتی تھی آنکھ تو دل مانتا نہ تھا

    تم پاس تھے تمہیں تو ہوئی ہوگی کچھ خبر

    اتنا تو اپنا شیشۂ دل بے صدا نہ تھا

    کچھ لوگ تھے جنہیں یہ سعادت ہوئی نصیب

    ورنہ یہاں کسے سر مہر و وفا نہ تھا

    ہر سمت ہو رہا تھا اندھیروں کا ازدحام

    شب کٹ چکی تھی اور سویرا ہوا نہ تھا

    کیا کیا فراغتیں تھیں تبسمؔ ہمیں کہ جب

    دل پر کسی کی یاد کا سایہ پڑا نہ تھا

    مأخذ :
    • کتاب : (Sau Baar Chaman Mahka)Kulliyat-e- Sufi Tabassum (Pg. 178)
    • Author : Sufi Ghulam Mustafa Tabassum
    • مطبع : Alhamd Publications, Lahore (2008)
    • اشاعت : 2008

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY