آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے

اکبر الہ آبادی

آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے

اکبر الہ آبادی

MORE BY اکبر الہ آبادی

    آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے

    ارمان مرے دل کے نکلنے نہیں دیتے

    خاطر سے تری یاد کو ٹلنے نہیں دیتے

    سچ ہے کہ ہمیں دل کو سنبھلنے نہیں دیتے

    کس ناز سے کہتے ہیں وہ جھنجھلا کے شب وصل

    تم تو ہمیں کروٹ بھی بدلنے نہیں دیتے

    پروانوں نے فانوس کو دیکھا تو یہ بولے

    کیوں ہم کو جلاتے ہو کہ جلنے نہیں دیتے

    حیران ہوں کس طرح کروں عرض تمنا

    دشمن کو تو پہلو سے وہ ٹلنے نہیں دیتے

    دل وہ ہے کہ فریاد سے لبریز ہے ہر وقت

    ہم وہ ہیں کہ کچھ منہ سے نکلنے نہیں دیتے

    گرمئ محبت میں وہ ہیں آہ سے مانع

    پنکھا نفس سرد کا جھلنے نہیں دیتے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites