آنکھوں کا تھا قصور نہ دل کا قصور تھا

جگر مراد آبادی

آنکھوں کا تھا قصور نہ دل کا قصور تھا

جگر مراد آبادی

MORE BYجگر مراد آبادی

    آنکھوں کا تھا قصور نہ دل کا قصور تھا

    آیا جو میرے سامنے میرا غرور تھا

    تاریک مثل آہ جو آنکھوں کا نور تھا

    کیا صبح ہی سے شام بلا کا ظہور تھا

    وہ تھے نہ مجھ سے دور نہ میں ان سے دور تھا

    آتا نہ تھا نظر تو نظر کا قصور تھا

    ہر وقت اک خمار تھا ہر دم سرور تھا

    بوتل بغل میں تھی کہ دل ناصبور تھا

    کوئی تو دردمند دل ناصبور تھا

    مانا کہ تم نہ تھے کوئی تم سا ضرور تھا

    لگتے ہی ٹھیس ٹوٹ گیا ساز آرزو

    ملتے ہی آنکھ شیشۂ دل چور چور تھا

    ایسا کہاں بہار میں رنگینیوں کا جوش

    شامل کسی کا خون تمنا ضرور تھا

    ساقی کی چشم مست کا کیا کیجیے بیان

    اتنا سرور تھا کہ مجھے بھی سرور تھا

    پلٹی جو راستے ہی سے اے آہ نامراد

    یہ تو بتا کہ باب اثر کتنی دور تھا

    جس دل کو تم نے لطف سے اپنا بنا لیا

    اس دل میں اک چھپا ہوا نشتر ضرور تھا

    اس چشم مے فروش سے کوئی نہ بچ سکا

    سب کو بقدر حوصلۂ دل سرور تھا

    دیکھا تھا کل جگرؔ کو سر راہ مے کدہ

    اس درجہ پی گیا تھا کہ نشے میں چور تھا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    بھوپندر سنگھ

    بھوپندر سنگھ

    نازش

    نازش

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY