آنکھوں کے کشکول شکستہ ہو جائیں گے شام کو

رئیس فروغ

آنکھوں کے کشکول شکستہ ہو جائیں گے شام کو

رئیس فروغ

MORE BYرئیس فروغ

    آنکھوں کے کشکول شکستہ ہو جائیں گے شام کو

    دن بھر چہرے جمع کئے ہیں کھو جائیں گے شام کو

    سارے پیڑ سفر میں ہوں گے اور گھروں کے سامنے

    جتنے پیڑ ہیں اتنے سائے لہرائیں گے شام کو

    دن کے شور میں شامل شاید کوئی تمہاری بات بھی ہو

    آوازوں کے الجھے دھاگے سلجھائیں گے شام کو

    شام سے پہلے درد کی دولت موجیں ہیں بے نام سی

    دریاؤں سے مل کے دریا بل کھائیں گے شام کو

    صبح سے آنگن میں آندھی ہے اندھیارا ہے دھول ہے

    شاید آگ چرانے والے گھر آئیں گے شام کو

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY