آنکھوں میں آنسوؤں کو ابھرنے نہیں دیا

عدیم ہاشمی

آنکھوں میں آنسوؤں کو ابھرنے نہیں دیا

عدیم ہاشمی

MORE BYعدیم ہاشمی

    آنکھوں میں آنسوؤں کو ابھرنے نہیں دیا

    مٹی میں موتیوں کو بکھرنے نہیں دیا

    جس راہ پر پڑے تھے ترے پاؤں کے نشاں

    اس راہ سے کسی کو گزرنے نہیں دیا

    چاہا تو چاہتوں کی حدوں سے گزر گئے

    نشہ محبتوں کا اترنے نہیں دیا

    ہر بار ہے نیا ترے ملنے کا ذائقہ

    ایسا ثمر کسی بھی شجر نے نہیں دیا

    یہ ہجر ہے تو اس کا فقط وصل ہے علاج

    ہم نے یہ زخم وقت کو بھرنے نہیں دیا

    اتنے بڑے جہان میں جائے گا تو کہاں

    اس اک خیال نے مجھے مرنے نہیں دیا

    ساحل دکھائی دے تو رہا تھا بہت قریب

    کشتی کو راستہ ہی بھنور نے نہیں دیا

    جتنا سکوں ملا ہے ترے ساتھ راہ میں

    اتنا سکون تو مجھے گھر نے نہیں دیا

    اس نے ہنسی ہنسی میں محبت کی بات کی

    میں نے عدیمؔ اس کو مکرنے نہیں دیا

    مآخذ :
    • کتاب : Faasle aise bhii ho.nge (Pg. 74)
    • Author : Adeem Hashmi
    • مطبع : Rumail House of Publications (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY