آنکھوں میں سوغات سمیٹے اپنے گھر آتے ہیں

ثروت حسین

آنکھوں میں سوغات سمیٹے اپنے گھر آتے ہیں

ثروت حسین

MORE BY ثروت حسین

    آنکھوں میں سوغات سمیٹے اپنے گھر آتے ہیں

    بجرے لاگے بندر گاہ پہ سوداگر آتے ہیں

    زرد زبور تلاوت کرتی ہے تصویر خزاں کی

    عین بہار میں کیسے کیسے خواب نظر آتے ہیں

    گندم اور گلابوں جیسے خواب شکستہ کرتے

    دور دراز زمینوں والے شہر میں در آتے ہیں

    شہزادی تجھے کون بتائے تیرے چراغ کدے تک

    کتنی محرابیں پڑتی ہیں کتنے در آتے ہیں

    بند قبائے سرخ کی منزل ان پر سہل ہوئی ہے

    جن ہاتھوں کو آگ چرا لینے کے ہنر آتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY