آنکھوں میں وہ آئیں تو ہنساتے ہیں مجھے خواب

سبیلہ انعام صدیقی

آنکھوں میں وہ آئیں تو ہنساتے ہیں مجھے خواب

سبیلہ انعام صدیقی

MORE BYسبیلہ انعام صدیقی

    آنکھوں میں وہ آئیں تو ہنساتے ہیں مجھے خواب

    ہر روز نئے باغ دکھاتے ہیں مجھے خواب

    اب پیار کے موسم کا ہے آغاز یقیناً

    نغمات نئے خوب سناتے ہیں مجھے خواب

    ہو نیند پہ چھایا ہوا جب فکر کا بادل

    اک سیر نئی سمت کراتے ہیں مجھے خواب

    اس زیست کی تلخی سے تو اچھی ہے مری نیند

    تتلی کبھی پھولوں سے ملاتے ہیں مجھے خواب

    اک درد کا احساس جگانے کے لیے ہی

    پھولوں کی طرح خار کے آتے ہیں مجھے خواب

    ملتے ہیں دکھانے کو مرا دل ہی کئی لوگ

    پھر درد کے صحرا میں سلاتے ہیں مجھے خواب

    وہ لوگ سبیلہؔ کے جو بچھڑے ہیں سفر میں

    اکثر انہیں کی یاد دلاتے ہیں مجھے خواب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY