آپ کے محرم اسرار تھے اغیار کہ ہم

غلام مولیٰ قلق

آپ کے محرم اسرار تھے اغیار کہ ہم

غلام مولیٰ قلق

MORE BY غلام مولیٰ قلق

    آپ کے محرم اسرار تھے اغیار کہ ہم

    دل غم ناک کے تم رہتے تھے غم خوار کہ ہم

    شکوہ آلود نصیحت نہیں اچھی ناصح

    آپ ہیں کشتۂ بیداد ستم گار کہ ہم

    حشر اگر کہوے مددگار ہمارا ہے کون

    بول اٹھے صاف ترا فتنۂ رفتار کہ ہم

    آپ کی شان کا سامان کہاں سے آیا

    یوسف حسن کے تھے آپ خریدار کہ ہم

    ہم برا غیر سے ملنے کو سمجھتے تھے کہ تم

    اپنے مطلب کے ہیں اغیار طلب گار کہ ہم

    ہائے بے رحمیٔ دلدار سے بے قدری جان

    زیست سے آپ ہماری ہوئے بیزار کہ ہم

    جانتے ہم ہیں برا ربط جتانے کو کہ غیر

    ہوں گے مشہور ہوس ناک ترے یار کہ ہم

    قتل کیا ہو کوئی خنجر میں نہیں طرز نگاہ

    داد اے عشق ہے جلاد گنہ گار کہ ہم

    نہ محبت کی خبر اس کو نہ ہم کو اس کی

    سادگی کہہ تو سہی یار ہے عیار کہ ہم

    روز و شب میرے پھرانے کو پھرے جاتا ہے

    چرخ ہے گردش بے کار سے ناچار کہ ہم

    ہو کے پامال ٹھکانے سے لگی خاک اپنی

    تو ہے آشفتہ سر کوچہ و بازار کہ ہم

    ان کو تم چاہتے ہو آپ کو ہم چاہتے ہیں

    لائق رحم ہیں فرمائیے اغیار کہ ہم

    اے قلقؔ پاؤں زمیں پر نہیں رکھتا مغرور

    چرخ ہے خاک در حیدر کرار کہ ہم

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites