آپ کی ہستی میں ہی مستور ہو جاتا ہوں میں

آتش بہاولپوری

آپ کی ہستی میں ہی مستور ہو جاتا ہوں میں

آتش بہاولپوری

MORE BYآتش بہاولپوری

    آپ کی ہستی میں ہی مستور ہو جاتا ہوں میں

    جب قریب آتے ہو خود سے دور ہو جاتا ہوں میں

    دار پر چڑھ کر کبھی منصور ہو جاتا ہوں میں

    طور پر جا کر کلیم طور ہو جاتا ہوں میں

    یوں کسی سے اپنے غم کی داستاں کہتا نہیں

    پوچھتے ہیں وہ تو پھر مجبور ہو جاتا ہوں میں

    اپنی فطرت کیا کہوں اپنی طبیعت کیا کہوں؟

    دوسروں کے غم میں بھی رنجور ہو جاتا ہوں میں

    مجھ کو آتشؔ بادہ و ساغر سے ہو کیا واسطہ؟

    ان کی آنکھیں دیکھ کر مخمور ہو جاتا ہوں میں

    مأخذ :
    • کتاب : Jada-e-manzil (Pg. 30)
    • Author : Atish Bahawalpuri
    • مطبع : Nirali Duniya Publications (2001)
    • اشاعت : 2001

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY