آپ کیوں بیٹھے ہیں غصے میں مری جان بھرے

مضطر خیرآبادی

آپ کیوں بیٹھے ہیں غصے میں مری جان بھرے

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    آپ کیوں بیٹھے ہیں غصے میں مری جان بھرے

    یہ تو فرمائیے کیا زلف نے کچھ کان بھرے

    جان سے جائے اگر آپ کو چاہے کوئی

    دم نکل جائے جو دم آپ کا انسان بھرے

    لیے پھرتے ہیں ہم اپنے جگر و دل دونوں

    ایک میں درد بھرے ایک میں ارمان بھرے

    دامن‌ دشت نے آنسو بھی نہ پوچھے افسوس

    میں نے رو رو کے لہو سیکڑوں میدان بھرے

    تیغ قاتل کو گلے سے جو لگایا مضطرؔ

    کھنچ کے بولی کہ بڑے آئے تم ارمان بھرے

    مأخذ :
    • کتاب : Khirman (Part-1) (Pg. 232)
    • Author : Muztar Khairabadi
    • مطبع : Javed Akhtar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY