Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آپ کیوں چھیڑتے ہیں دیپک راگ

قیوم نظر

آپ کیوں چھیڑتے ہیں دیپک راگ

قیوم نظر

MORE BYقیوم نظر

    آپ کیوں چھیڑتے ہیں دیپک راگ

    شہر میں لگ رہی ہے خود ہی آگ

    اٹھ رہا ہے حریم دل سے دھواں

    لٹ رہا ہے سہاگنوں کا سہاگ

    شعلہ ساماں ہوئی ہے تاریکی

    کیسے جاگے ہیں روشنی کے بھاگ

    جانے کس کس ہوس کو دیں گے جنم

    بوتلوں کے اڑا چکے جو کاگ

    لاگ میں تھی کبھی لگاؤ کی شان

    اب لبوں میں لگاؤ کی ہے لاگ

    کف دریا کا دیکھیے انجام

    بے سبب لائیے نہ منہ میں جھاگ

    جاتے لمحے دہائی دیتے ہیں

    نئے اطوار کے طریق پہ جاگ

    مسکراتا ہے کھیت سرسوں کا

    توڑتی ہیں جو گاؤں والیاں ساگ

    سرکنڈوں میں ہے کینچلی اٹکی

    کہیں لہرا کے چھپ گیا ہے ناگ

    چاند پر جو کمند ڈالتے ہیں

    مجھ سے کہتے ہیں زندگی بھی تیاگ

    مأخذ:

    Funoon(Jadeed Ghazal Number: Volume-002) (Pg. 153)

      • اشاعت: 1969
      • ناشر: احمد ندیم قاسمی
      • سن اشاعت: 1969

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے