عاقبت نا شناس ہوں اور ہوں

محمّد راشد اطہر

عاقبت نا شناس ہوں اور ہوں

محمّد راشد اطہر

MORE BYمحمّد راشد اطہر

    عاقبت نا شناس ہوں اور ہوں

    غم یہ ہے بے لباس ہوں اور ہوں

    تو زمانہ شناس تھا اور تھا

    میں محبت شناس ہوں اور ہوں

    تو بہت دور تھا اور آج نہیں

    میں ترے آس پاس ہوں اور ہوں

    لوگ مایوس ہو کے جا بھی چکے

    اور میں کب سے اداس ہوں اور ہوں

    لہر ہوتا تو بن کے مٹ جاتا

    میں کنارے کی گھاس ہوں اور ہوں

    سارا مضمون کون پڑھتا ہے

    میں تو بس اقتباس ہوں اور ہوں

    میرے ہونے کی صورتیں کیا ہیں

    میں فقط اپنا ماس ہوں اور ہوں

    بندگی مجھ کو راس ہو کہ نہ ہو

    میں خدائی کو راس ہوں اور ہوں

    مجھ پہ اک بوجھا ہے دوئی میری

    اپنے ہونے کی پیاس ہوں اور ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY