عارض شمع پہ نیند آ گئی پروانوں کو

ظہیر کاشمیری

عارض شمع پہ نیند آ گئی پروانوں کو

ظہیر کاشمیری

MORE BYظہیر کاشمیری

    عارض شمع پہ نیند آ گئی پروانوں کو

    خواب سے اب نہ جگائے کوئی دیوانوں کو

    ان کو معلوم ہے رندوں کی تمنا کیا ہے

    عکس رخ ڈال کے بھر دیتے ہیں پیمانوں کو

    اے دل زار ادھر چل یہ تذبذب کیا ہے

    وہ تو آنکھوں پہ اٹھا لیتے ہیں مہمانوں کو

    وہ بھی متلاشیٔ یک جلوۂ گم گشتہ ہیں

    ہم نے نزدیک سے دیکھا ہے پری خانوں کو

    ہو گئے صاف عیاں روح و بدن کے ناسور

    روشنی مار گئی آج کے انسانوں کو

    ان کے ہر چاک سے تنویر وفا پھوٹے گی

    جشن فردا میں سجائیں گے گریبانوں کو

    قلم دار سے تحریر رسن سے ہم نے

    اک نیا موڑ دیا عشق کے افسانوں کو

    جوش دریا کے قرائن یہ بتاتے ہیں ظہیرؔ

    موج کھا جائے گی ساحل کے شبستانوں کو

    مآخذ :
    • کتاب : Raqs-e-junuu.n (Pg. 100)
    • Author : Zaheer Kashmiri
    • مطبع : Mohd Jameel-un-nabi (1982)
    • اشاعت : 1982

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY