آرزوئے دل ناکام سے ڈر لگتا ہے

عزیز بدایونی

آرزوئے دل ناکام سے ڈر لگتا ہے

عزیز بدایونی

MORE BY عزیز بدایونی

    آرزوئے دل ناکام سے ڈر لگتا ہے

    زندگانی ترے پیغام سے ڈر لگتا ہے

    پھر کسی جذبۂ گمنام سے ڈر لگتا ہے

    حسن معصوم پہ الزام سے ڈر لگتا ہے

    شیشۂ دل پہ کوئی ٹھیس نہ لگنے پائے

    تلخیٔ مے سے نہیں جام سے ڈر لگتا ہے

    جس کو آغاز محبت کا نہیں ہے احساس

    بس اسے عشق کے انجام سے ڈر لگتا ہے

    وقت کے ساتھ بدل جاتی ہیں قدریں ہمدم

    راہ پرخار میں آرام سے ڈر لگتا ہے

    جس نے طوفان بلا خیز کا منہ توڑ دیا

    کیوں اسے گردش ایام سے ڈر لگتا ہے

    دیکھ کر قصر تمنا کی تباہی شاید

    گلشن دل کے در و بام سے ڈر لگتا ہے

    مہر تاباں کی قسم گیسوئے جاناں کی قسم

    صبح نو تجھ سے نہیں شام سے ڈر لگتا ہے

    صرف اللہ سے ڈرتی ہے عزیزؔ خستہ

    کیا اسے تلخیٔ ایام سے ڈر لگتا ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Aabshaar (Pg. 199)
    • Author : Aziz Badayuni
    • مطبع : Aziz Badayuni (Begum Aziz Azam (1981)
    • اشاعت : 1981

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY