آرزو لے کے کوئی گھر سے نکلتے کیوں ہو

والی آسی

آرزو لے کے کوئی گھر سے نکلتے کیوں ہو

والی آسی

MORE BYوالی آسی

    آرزو لے کے کوئی گھر سے نکلتے کیوں ہو

    پاؤں جلتے ہیں تو پھر آگ پہ چلتے کیوں ہو

    شہرتیں سب کے مقدر میں کہاں ہوتی ہیں

    تم یہ ہر روز نیا بھیس بدلتے کیوں ہو

    یوں تو تم اور بھی مشکوک نظر آؤ گے

    بات کرتے ہوئے رک رک کے سنبھلے کیوں ہو

    ہاں! تمہیں جرم کا احساس ستاتا ہوگا

    ورنہ یوں راتوں کو اٹھ اٹھ کے ٹہلتے کیوں ہو

    اور بازار سے غالبؔ کی طرح لے آؤ

    دل اگر ٹوٹ گیا ہے تو مچلتے کیوں ہو

    تم نے پہلے کبھی اس بات کو سوچا ہوتا

    پیڑ کی چھاؤں میں بیٹھے ہو تو جلتے کیوں ہو

    مآخذ :
    • کتاب : Mujalla Dastavez (Pg. 107)
    • Author : Aziz Nabeel
    • مطبع : Edarah Dastavez (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY