آس کے رنگیں پتھر کب تک غاروں میں لڑھکاؤ گے

نور بجنوری

آس کے رنگیں پتھر کب تک غاروں میں لڑھکاؤ گے

نور بجنوری

MORE BYنور بجنوری

    آس کے رنگیں پتھر کب تک غاروں میں لڑھکاؤ گے

    شام ڈھلے ان کہساروں میں اپنا کھوج نہ پاؤ گے

    جانے پہچانے سے چہرے اپنی سمت بلائیں گے

    قدم قدم پر لیکن اپنے سائے سے ٹکراؤگے

    ہر ٹیلے کی اوٹ سے لاکھوں وحشی آنکھیں چمکیں گی

    ماضی کی ہر پگڈنڈی پر نیزوں میں گھر جاؤ گے

    پھنکاروں کا زہر تمہارے گیتوں پر جم جائے گا

    کب تک اپنے ہونٹ مری جاں سانپوں سے ڈسواؤ گے

    چیخیں گی بد مست ہوائیں اونچے اونچے پیڑوں میں

    روٹھ کے جانے والے پتو کب تک واپس آؤ گے

    جادو نگری ہے یہ پیارے آوازوں پر دھیان نہ دو

    پیچھے مڑ کر دیکھ لیا تو پتھر کے ہو جاؤ گے

    مأخذ :
    • کتاب : mahvar-volume-12 (Pg. 133)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY