عاشق جو اس گلی کا بھی مر کر چلا گیا

خان جانباز

عاشق جو اس گلی کا بھی مر کر چلا گیا

خان جانباز

MORE BYخان جانباز

    عاشق جو اس گلی کا بھی مر کر چلا گیا

    دنیا سے ایک اور قلندر چلا گیا

    غربت کا اپنے حال تجھے اور کیا کہوں

    اک دن تو اک فقیر بھی اٹھ کر چلا گیا

    فرعون اپنے دور کا زندہ ہے آج بھی

    دنیا سمجھ رہی تھی ستم گر چلا گیا

    چاقو پہ ہے نشان کسی بے گناہ کا

    قاتل تو ہاتھ میں لئے خنجر چلا گیا

    وہ تنکا جوڑ کر کے نشیمن جو تھا بنا

    بستی کی آگ میں وہ مرا گھر چلا گیا

    امید کر چکا تھا نئے سال سے بہت

    اک اور زخم دے کے دسمبر چلا گیا

    لیلیٰ سے جو ملا تھا وہ پتھر لئے ہوئے

    جانبازؔ اپنے شہر سے باہر چلا گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY