آشنا ہو کر تغافل آشنا کیوں ہو گئے

اختر شیرانی

آشنا ہو کر تغافل آشنا کیوں ہو گئے

اختر شیرانی

MORE BYاختر شیرانی

    آشنا ہو کر تغافل آشنا کیوں ہو گئے

    باوفا تھے تم تو آخر بے وفا کیوں ہو گئے

    اور بھی رہتے ابھی کچھ دن نظر کے سامنے

    دیکھتے ہی دیکھتے ہم سے خفا کیوں ہو گئے

    ان وفاداری کے وعدوں کو الٰہی کیا ہوا

    وہ وفائیں کرنے والے بے وفا کیوں ہو گئے

    کس طرح دل سے بھلا بیٹھے ہماری یاد کو

    اس طرح پردیس جا کر بے وفا کیوں ہو گئے

    تم تو کہتے تھے کہ ہم تجھ کو نہ بھولیں گے کبھی

    بھول کر ہم کو تغافل آشنا کیوں ہو گئے

    ہم تمہارا درد دل سن سن کے ہنستے تھے کبھی

    آج روتے ہیں کہ یوں درد آشنا کیوں ہو گئے

    چاند کے ٹکڑے بھی نظروں میں سما سکتے نہیں

    کیا بتائیں ہم ترے در کے گدا کیوں ہو گئے

    یہ جوانی یہ گھٹائیں یہ ہوائیں یہ بہار

    حضرت اخترؔ ابھی سے پارسا کیوں ہو گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY