آسماں کا نہ رہا اور زمیں کا نہ رہا

نذیر فتح پوری

آسماں کا نہ رہا اور زمیں کا نہ رہا

نذیر فتح پوری

MORE BY نذیر فتح پوری

    آسماں کا نہ رہا اور زمیں کا نہ رہا

    غم کی جو شاخ سے ٹوٹا وہ کہیں کا نہ رہا

    اتنے بے رنگ اجالوں سے نظر گزری ہے

    حوصلہ آنکھ کو اب خواب حسیں کا نہ رہا

    وقت نے سارے بھروسوں کے شجر کاٹ دئے

    اب تو سایہ بھی کوئی خاک نشیں کا نہ رہا

    کون اب اس کو اجڑنے سے بچا سکتا ہے

    ہائے وہ گھر کہ جو اپنے ہی مکیں کا نہ رہا

    اے نظیرؔ اپنی شرافت ہے اسی کی قائل

    ہاں کا پابند ہوا جب تو نہیں کا نہ رہا

    مآخذ:

    • کتاب : Aiwan (Pg. 108)
    • Author : Manazir Ashiq Harganvi & Shahid Nayeem
    • مطبع : Nirali Duniya (1998)
    • اشاعت : 1998

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY