آسماں کھینچ کے دھرتی سے ملا سکتا ہے

جہانزیب ساحر

آسماں کھینچ کے دھرتی سے ملا سکتا ہے

جہانزیب ساحر

MORE BYجہانزیب ساحر

    آسماں کھینچ کے دھرتی سے ملا سکتا ہے

    میری جانب وہ کبھی ہاتھ بڑھا سکتا ہے

    شاہ زادی جو کبوتر ہے ترے ہاتھوں میں

    دو قبیلوں کو تصادم سے بچا سکتا ہے

    اپنے کاندھوں سے اتارا ہی نہیں زاد سفر

    پھر سے ہجرت کا مجھے حکم بھی آ سکتا ہے

    چاہتا ہے جو محبت میں ترامیم نئی

    میری آواز میں آواز ملا سکتا ہے

    بند کمرے میں ہے تنہائی کہاں تک میری

    کھڑکیاں کھول کے دیکھا بھی تو جا سکتا

    کوئی کتنا بھی ہو کم ظرف و گنہ گار مگر

    ایک پیاسے کو وہ پانی تو پلا سکتا ہے

    اس لیے بعد میں اٹھا ہوں میں سب سے ساحرؔ

    وہ اشارے سے مجھے پاس بلا سکتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY