آسماں مل نہ سکا دھرتی پہ آیا نہ گیا

عمران بدایوںی

آسماں مل نہ سکا دھرتی پہ آیا نہ گیا

عمران بدایوںی

MORE BYعمران بدایوںی

    آسماں مل نہ سکا دھرتی پہ آیا نہ گیا

    زندگی ہم سے کوئی ٹھور بنایا نہ گیا

    آسماں مجھ سے میاں حجرے میں لایا نہ گیا

    شاعری چھوڑ دی مفہوم چرایا نہ گیا

    نوکری کی، لکھی نظمیں، سکوں پایا نہ گیا

    شہر دل تجھ کو کسی طور بسایا نہ گیا

    گھر کی ویرانیاں رسوا ہوئیں بے کار میں ہی

    مجھ سے بازار میں بھی وقت بتایا نہ گیا

    جوش میں ڈھا تو دی رشتے کی عمارت لیکن

    دونوں سے آج تلک ملبہ ہٹایا نہ گیا

    خون کے داغ نہ آ جائیں مرے لہجے میں

    اس لیے غزلوں کو اخبار بنایا نہ گیا

    دکھ نہ جائے تو بچھڑتی ہوئی بس اس ڈر سے

    مجھ سے آنکھوں کو کوئی خواب دکھایا نہ گیا

    اپنا حصہ بھی تو مانگا ہے زمیں سے میں نے

    آسماں یوں ہی مرے سر پہ گرایا نہ گیا

    جو تری یاد کے پنچھی نہ رکے کیا ہے عجب

    عمر بھر دل میں تو تجھ کو بھی بٹھایا نہ گیا

    ذات مذہب کہ زباں نام اسی کے تو ہیں سب

    خود کو جس قید سے تا عمر چھڑایا نہ گیا

    خاک دریا کے کناروں کو ملاؤں گا میں

    خود کو ہی آج تلک خود سے ملایا نہ گیا

    میرا ایمان ہوا خرچ جسے پانے میں

    کیا غضب ہوگا جو اس شے کو بچایا نہ گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY