Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آسماں پر کالے بادل چھا گئے

بدر عالم خلش

آسماں پر کالے بادل چھا گئے

بدر عالم خلش

MORE BYبدر عالم خلش

    آسماں پر کالے بادل چھا گئے

    گھر کے اندر آئنے دھندلا گئے

    کیا غضب ہے ایک بھی کوئل نہیں

    سب بغیچے آم کے منجرا گئے

    گھٹتے بڑھتے فاصلوں کے درمیاں

    دفعتاً دو راستے بل کھا گئے

    ڈوبتا ہے آ کے سورج ان کے پاس

    وہ دریچے میرے دل کو بھا گئے

    شہر کیا دنیا بدل کر دیکھ لو

    پھر کہو گے ہم تو اب اکتا گئے

    سامنے تھا بے رخی کا آسماں

    اس لئے واپس زمیں پر آ گئے

    یاد آیا کچھ گرا تھا ٹوٹ کر

    بے خودی میں خود سے کل ٹکرا گئے

    حرمت لوح و قلم جاتی رہی

    کس طرح کے لوگ ادب میں آ گئے

    ہم ہیں مجرم آپ ملزم بھی نہیں

    آپ کس انجام سے گھبرا گئے

    ہو گئی ہے شعلہ زن ہر شاخ گل

    بڑھ رہے تھے ہاتھ جو تھرا گئے

    دھنس گئے جو رک گئے تھے راہ میں

    دیکھتے تھے مڑ کے جو پتھرا گئے

    گھر کی تنہائی جب آنگن ہو گئی

    یہ ستارے کیا قیامت ڈھا گئے

    تھے مخاطب جسم لہجے بے شمار

    جاں بلب ارماں خلشؔ غزلا گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے