آتش باغ ایسی بھڑکی ہے کہ جلتی ہے ہوا

امداد علی بحر

آتش باغ ایسی بھڑکی ہے کہ جلتی ہے ہوا

امداد علی بحر

MORE BYامداد علی بحر

    آتش باغ ایسی بھڑکی ہے کہ جلتی ہے ہوا

    کوچۂ گل سے دھواں ہو کر نکلتی ہے ہوا

    گریۂ عشاق سے کیچڑ ہے ایسے جا بجا

    تھام کر دیوار و در گلیوں میں چلتی ہے ہوا

    گلشن عالم کی نیرنگی سے ہوتا ہے یقیں

    پھر شگوفہ پھولتا ہے پھر بدلتی ہے ہوا

    دیکھیے جا کر ذرا کیفیت جوش بہار

    جھومتے ہیں پیڑ گر گر کر سنبھلتی ہے ہوا

    نارسائی دیکھنا اڑتا ہے جب میرا غبار

    یار کے کوٹھے کی کانس سے پھسلتی ہے ہوا

    گرمیوں میں سیر گلزاروں کی بھاتی ہے مجھے

    ہر قدم پر پنکھیا پھولوں کی جھلتی ہے ہوا

    بحرؔ پنکھا ہاتھ سے رکھ دو نہایت زار ہوں

    موج دریا کی طرح مجھ کو کچلتی ہے ہوا

    مآخذ
    • کتاب : Ghazal Usne Chhedi(3) (Pg. 126)
    • Author : Farhat Ehsas
    • مطبع : Rekhta Books (2017)
    • اشاعت : 2017

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY