آتش غم میں بھبھوکا دیدۂ نمناک تھا

یعقوب عامر

آتش غم میں بھبھوکا دیدۂ نمناک تھا

یعقوب عامر

MORE BYیعقوب عامر

    آتش غم میں بھبھوکا دیدۂ نمناک تھا

    آنسوؤں میں جو زباں پر حرف تھا بیباک تھا

    چین ہی کب لینے دیتا تھا کسی کا غم ہمیں

    یہ نہ دیکھا عمر بھر اپنا بھی دامن چاک تھا

    ہم شکستہ دل نہ بہرہ مند دنیا سے ہوئے

    ورنہ اس آلودگی سے کس کا دامن پاک تھا

    جوہر فن میرا خود میری نظر سے گر گیا

    حرف دل پر بھی زمانہ کس قدر سفاک تھا

    رات کی لاشوں کا کوڑا صبحدم پھینکا گیا

    کیا ہمارے دور کا انساں خس و خاشاک تھا

    کتنا خوش ہوتا تھا پہلے آسماں یہ دیکھ کر

    جو تماشہ تھا جہاں میں وہ تہ افلاک تھا

    میرا دشمن جب ہوا راضی تو حیرانی ہوئی

    میرے آگے اور بھی اک روئے ہیبت ناک تھا

    کتنی باتیں تھیں ہمارے ذہن کا حصہ مگر

    تجربے کے بعد ان کا اور ہی ادراک تھا

    خوئے انساں کو ازل سے ہی یہ دنیا تنگ ہے

    جو ورق تاریخ کا دیکھا وہ عبرت ناک تھا

    ہم جو آ بیٹھے کبھی تو تن میں کانٹے ہی چبھے

    سایۂ گل بھی ہمیں کتنا اذیت ناک تھا

    جلوۂ فطرت نمایاں ہے لباس رنگ میں

    حسن ہر تہذیب میں منت کش پوشاک تھا

    سر کے نیچے اینٹ رکھ کر عمر بھر سویا ہے تو

    آخری بستر بھی عامرؔ تیرا فرش خاک تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY