اب آنکھ بھی مشاق ہوئی زیر و زبر کی

عذرا پروین

اب آنکھ بھی مشاق ہوئی زیر و زبر کی

عذرا پروین

MORE BYعذرا پروین

    اب آنکھ بھی مشاق ہوئی زیر و زبر کی

    خواہش تو تری گھاٹ کی رہ پائی نہ گھر کی

    رنگ اپنے جو تھے بھر بھی کہاں پائے کبھی ہم

    ہم نے تو سدا رد عمل میں ہی بسر کی

    جب صرف ترے گل میں مرا حصہ نظر ہے

    پھر سوچ ہے کیا درد یہ تاخیر نظر کی

    یہ کوفے کی گلیاں ہیں کہ یہ میری رگیں بھی

    ہر سمت سے چبھتی ہے انی مجھ کو شمر کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY