اب آپ کہہ رہے ہیں کہ چہرہ اداس ہے

عمران راہب

اب آپ کہہ رہے ہیں کہ چہرہ اداس ہے

عمران راہب

MORE BY عمران راہب

    اب آپ کہہ رہے ہیں کہ چہرہ اداس ہے

    میں نے سنا تھا آپ کا کمرہ اداس ہے

    گردن ہے خودکشی کے بہانے تلاشتی

    ہر روز مجھ سے کہتی ہے پنکھا اداس ہے

    بارش میں بھیگتی ہوئی لڑکی کو کیا خبر

    فٹ پاتھ پر پڑا ہوا چھاتا اداس ہے

    کوئی نہ دیکھ پایا تو بولا نہیں کوئی

    گونگا ہے بد گمان تو اندھا اداس ہے

    پٹری پہ لیٹ جاؤں گا ثروت نہیں ہوں میں

    پر جانتا ہوں ریل کا پہیہ اداس ہے

    برگد کی شاخ توڑ دی آندھی نے پچھلی رات

    اس واسطے تو گاؤں کا بوڑھا اداس ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY