اب دم بخود ہیں نبض کی رفتار دیکھ کر

بسمل  عظیم آبادی

اب دم بخود ہیں نبض کی رفتار دیکھ کر

بسمل  عظیم آبادی

MORE BYبسمل  عظیم آبادی

    اب دم بخود ہیں نبض کی رفتار دیکھ کر

    تم ہنس رہے ہو حالت بیمار دیکھ کر

    سودا وہ کیا کرے گا خریدار دیکھ کر

    گھبرا گیا جو گرمئ بازار دیکھ کر

    اللہ تیرے ہاتھ ہے اب آبروئے شوق

    دم گھٹ رہا ہے وقت کی رفتار دیکھ کر

    دیتا کہاں ہے وقت پڑے پر کوئی بھی ساتھ

    ہم کو مصیبتوں میں گرفتار دیکھ کر

    آتے ہیں میکدے کی طرف سے جناب شیخ

    سرگوشیاں ہیں لغزش رفتار دیکھ کر

    غیروں نے غیر جان کے ہم کو اٹھا دیا

    بیٹھے جہاں بھی سایۂ دیوار دیکھ کر

    آتے ہیں بزم یاراں میں پہچان ہی گیا

    مے خوار کی نگاہ کو مے خوار دیکھ کر

    اس مدھ بھری نگاہ کی اللہ رے کشش

    سو بار دیکھنا پڑا اک بار دیکھ کر

    تم رہنمائے وقت سہی پھر بھی چند گام

    چلنا پڑے گا وقت کی رفتار دیکھ کر

    وقت سحر گزر گئی کیا کیا نہ پوچھیے

    گردن میں ان کی سوکھے ہوئے ہار دیکھ کر

    تلچھٹ ملا کے دیتا ہے رندوں کو ساقیا

    ساغر پٹک نہ دے کوئی ہشیار دیکھ کر

    بسملؔ کو کیا ہے چادر رحمت رسول کی

    سائے میں لے ہی لے گی گنہ گار دیکھ کر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY