اب دل کی طرف درد کی یلغار بہت ہے

فرحت احساس

اب دل کی طرف درد کی یلغار بہت ہے

فرحت احساس

MORE BYفرحت احساس

    اب دل کی طرف درد کی یلغار بہت ہے

    دنیا مرے زخموں کی طلب گار بہت ہے

    اب ٹوٹ رہا ہے مری ہستی کا تصور

    اس وقت مجھے تجھ سے سروکار بہت ہے

    مٹی کی یہ دیوار کہیں ٹوٹ نہ جائے

    روکو کہ مرے خون کی رفتار بہت ہے

    ہر سانس اکھڑ جانے کی کوشش میں پریشاں

    سینے میں کوئی ہے جو گرفتار بہت ہے

    پانی سے الجھتے ہوئے انسان کا یہ شور

    اس پار بھی ہوگا مگر اس پار بہت ہے

    RECITATIONS

    فرحت احساس

    فرحت احساس

    فرحت احساس

    اب دل کی طرف درد کی یلغار بہت ہے فرحت احساس

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY