اب ہاتھوں میں پیار ہے صاحب

رخسار ناظم آبادی

اب ہاتھوں میں پیار ہے صاحب

رخسار ناظم آبادی

MORE BYرخسار ناظم آبادی

    اب ہاتھوں میں پیار ہے صاحب

    اور دل میں تلوار ہے صاحب

    الٹی الٹی رسمیں لے کر

    یہ الٹا سنسار ہے صاحب

    مجبوری کی زنجیریں ہیں

    عشرت کا بازار ہے صاحب

    سب دریا میں ڈوب رہے ہیں

    سب کی نیا پار ہے صاحب

    بھوکے بچے جاگ رہے ہیں

    ماں گھر میں بیمار ہے صاحب

    ہم سب ہی دریوزہ گر ہیں

    روٹی کا بیوپار ہے صاحب

    دروازے پر آس لگی ہے

    سات سمندر پار ہے صاحب

    منزل منزل ڈھونڈ رہا ہوں

    کس جانب رخسارؔ ہے صاحب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY