اب اختیار میں موجیں نہ یہ روانی ہے

ابھیشیک شکلا

اب اختیار میں موجیں نہ یہ روانی ہے

ابھیشیک شکلا

MORE BY ابھیشیک شکلا

    اب اختیار میں موجیں نہ یہ روانی ہے

    میں بہہ رہا ہوں کہ میرا وجود پانی ہے

    میں اور میری طرح تو بھی اک حقیقت ہے

    پھر اس کے بعد جو بچتا ہے وہ کہانی ہے

    ترے وجود میں کچھ ہے جو اس زمیں کا نہیں

    ترے خیال کی رنگت بھی آسمانی ہے

    ذرا بھی دخل نہیں اس میں ان ہواؤں کا

    ہمیں تو مصلحتاً اپنی خاک اڑانی ہے

    یہ خواب گاہ یہ آنکھیں یہ میرا عشق قدیم

    ہر ایک چیز مری ذات میں پرانی ہے

    وہ ایک دن جو تجھے سوچنے میں گزرا تھا

    تمام عمر اسی دن کی ترجمانی ہے

    نواح جاں میں بھٹکتی ہیں خوشبوئیں جس کی

    وہ ایک پھول کہ لگتا ہے رات رانی ہے

    ارادتاً تو کہیں کچھ نہیں ہوا لیکن

    میں جی رہا ہوں یہ سانسوں کی خوش گمانی ہے

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY