اب اس سے بڑھ کے کیا ناکامیاں ہوں گی مقدر میں

مضطر خیرآبادی

اب اس سے بڑھ کے کیا ناکامیاں ہوں گی مقدر میں

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    اب اس سے بڑھ کے کیا ناکامیاں ہوں گی مقدر میں

    میں جب پہنچا تو کوئی بھی نہ تھا میدان محشر میں

    الٰہی نہر‌ رحمت بہہ رہی ہے اس میں ڈلوا دے

    گنہ گاروں کے عصیاں باندھ کر دامان محشر میں

    کھلے گیسو تو دیدار‌ خدا بھی ہو گیا مشکل

    قیامت کا اندھیرا چھا گیا میدان محشر میں

    شریک کثرت مخلوق تو کیوں ہو گیا یا رب

    تری وحدت کا پردہ کیا ہوا میدان محشر میں

    قیامت تو ہماری تھی ہم آپس میں نبٹ لیتے

    کوئی پوچھے خدا کیوں آ گیا میدان محشر میں

    کسی کا آبلہ پا قبر سے یہ پوچھتا اٹھا

    کہیں تھوڑے بہت کانٹے بھی ہیں میدان محشر میں

    الٰہی درد کے قصے بہت ہیں وقت تھوڑا ہے

    شب فرقت کا دامن باندھ دے دامان محشر میں

    نہ اٹھتے کشتگان ناز ہرگز اپنی تربت سے

    تری آواز شامل ہو گئی تھی صور محشر میں

    تہہ مدفن مجھے رہتے زمانہ ہو گیا مضطرؔ

    کچھ ایسی نیند سویا ہوں کہ اب جاگوں گا محشر میں

    مأخذ :
    • کتاب : Khirman  (Part-11) (Pg. 54)
    • Author : Muztar Khairabadi
    • مطبع : Javed Akhtar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY