اب اسے کیا کرے کوئی آنکھوں میں روشنی نہیں

اقبال عظیم

اب اسے کیا کرے کوئی آنکھوں میں روشنی نہیں

اقبال عظیم

MORE BYاقبال عظیم

    اب اسے کیا کرے کوئی آنکھوں میں روشنی نہیں

    شہر بھی اجنبی نہیں لوگ بھی اجنبی نہیں

    ہم نے یہ سوچ کر کبھی جرأت عرض کی نہیں

    شکوہ بصد خلوص بھی شیوۂ دوستی نہیں

    یوں تو بڑے خلوص سے لوگ ہوئے ہیں ہم سفر

    راہ میں ساتھ چھوڑ دیں ان سے بعید بھی نہیں

    پرسش حال کے سوا کوئی کرے بھی کیا مگر

    پرسش حال دوستو طنز ہے دوستی نہیں

    بیتے ہوئے خوشی کے دن بھولی ہوئی کہانیاں

    آپ کو یاد ہوں تو ہوں ہم کو تو یاد بھی نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY