اب کہاں جا کے یہ سمجھائیں کہ کیا ہوتا ہے

مخدومؔ محی الدین

اب کہاں جا کے یہ سمجھائیں کہ کیا ہوتا ہے

مخدومؔ محی الدین

MORE BYمخدومؔ محی الدین

    اب کہاں جا کے یہ سمجھائیں کہ کیا ہوتا ہے

    ایک آنسو جو سر چشم وفا ہوتا ہے

    اس گزر گاہ میں اس دشت میں اے جذبۂ عشق

    جز ترے کون یہاں آبلہ پا ہوتا ہے

    دل کی محراب میں اک شمع جلی تھی سر شام

    صبح دم ماتم ارباب وفا ہوتا ہے

    دیپ جلتے ہیں دلوں میں کہ چتا جلتی ہے

    اب کی دیوالی میں دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے

    جب برستی ہے تری یاد کی رنگین پھوار

    پھول کھلتے ہیں در مے کدہ وا ہوتا ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY