اب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گا

اعجاز رحمانی

اب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گا

اعجاز رحمانی

MORE BYاعجاز رحمانی

    اب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گا

    سورج کو سمندر میں اترنا ہی پڑے گا

    فطرت کے تقاضے کبھی بدلے نہیں جاتے

    خوشبو ہے اگر وہ تو بکھرنا ہی پڑے گا

    پڑتی ہے تو پڑ جائے شکن اس کی جبیں پر

    سچائی کا اظہار تو کرنا ہی پڑے گا

    ہر شخص کو آئیں گے نظر رنگ سحر کے

    خورشید کی کرنوں کو بکھرنا ہی پڑے گا

    میں سوچ رہا ہوں یہ سر شہر نگاراں

    یہ اس کی گلی ہے تو ٹھہرنا ہی پڑے گا

    اب شانۂ تدبیر ہے ہاتھوں میں ہمارے

    حالات کی زلفوں کو سنورنا ہی پڑے گا

    اک عمر سے بے نور ہے یہ محفل ہستی

    اعجازؔ کوئی رنگ تو بھرنا ہی پڑے گا

    مأخذ :
    • کتاب : Ghazalistaan (Pg. 299)
    • Author : Farkhanda Hashmi, Najeeb Rampuri
    • مطبع : Farid Book Depot ltd, New Delhi (2003)
    • اشاعت : 2003

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY