اب کون بات رہ گئی یہ بات بھی گئی

مبارک عظیم آبادی

اب کون بات رہ گئی یہ بات بھی گئی

مبارک عظیم آبادی

MORE BYمبارک عظیم آبادی

    اب کون بات رہ گئی یہ بات بھی گئی

    یعنی کبھی کبھی کی ملاقات بھی گئی

    کہتے ہیں وہ کہ جذبۂ دل اب فریب ہے

    جب دل گیا تو دل کی کرامات بھی گئی

    جو کچھ کیا وہ تو نے کیا اضطراب شوق

    سو آفتیں بھی آئیں مری بات بھی گئی

    دستار آپ کی جو ہوئی رہن میکدہ

    توبہ ہماری قبلۂ حاجات بھی گئی

    وعدے کی کون رات قیامت کا دن نہیں

    آثار صبح کہتے ہیں یہ رات بھی گئی

    مانا کہ دن سدھارے مبارکؔ شباب کے

    رنگیں طبیعتوں سے ملاقات بھی گئی

    مآخذ :
    • کتاب : intekhaab-e-kalaam (Pg. 42)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY