اب کے برس ہونٹوں سے میرے تشنہ لبی بھی ختم ہوئی

طاہر فراز

اب کے برس ہونٹوں سے میرے تشنہ لبی بھی ختم ہوئی

طاہر فراز

MORE BYطاہر فراز

    اب کے برس ہونٹوں سے میرے تشنہ لبی بھی ختم ہوئی

    تجھ سے ملنے کی اے دریا مجبوری بھی ختم ہوئی

    کیسا پیار کہاں کی الفت عشق کی بات تو جانے دو

    میرے لیے اب اس کے دل سے ہمدردی بھی ختم ہوئی

    سامنے والی بلڈنگ میں اب کام ہے بس آرائش کا

    کل تک جو ملتی تھی ہمیں وہ مزدوری بھی ختم ہوئی

    جیل سے واپس آ کر اس نے پانچوں وقت نماز پڑھی

    منہ بھی بند ہوئے سب کے اور بدنامی بھی ختم ہوئی

    جس کی جل دھارا سے بستی والے جیون پاتے تھے

    رستہ بدلتے ہی ندی کے وہ بستی بھی ختم ہوئی

    مآخذ:

    • کتاب : Kashkol (Pg. 66)
    • Author : Tahir Faraz
    • مطبع : Isteara Publications (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY