اب کے ملے تو ہم دونوں ہی (ردیف .. ن)

رینو نیر

اب کے ملے تو ہم دونوں ہی (ردیف .. ن)

رینو نیر

MORE BYرینو نیر

    اب کے ملے تو ہم دونوں ہی

    خود کی تجھ سے بات کریں گے

    خود کی خود سے باتیں کر کے

    ہم دونوں اکتا بھی چکے ہیں

    تیرے خیالوں میں ڈوبے تو

    دنیا ساری گھوم لی ہم نے

    در پہ اک دستک جو ہوئی تو

    ہم کو یہ معلوم ہوا کے

    کب سے ہم گھر آ بھی چکے ہے

    راتوں کو جگتے رہنا بھی

    خوابوں سے بچتے رہنا بھی

    آنکھوں کی مجبوری ہوگی

    آنکھوں کے قصے سے ہم تو

    اپنی آنکھ بچا بھی چکے ہیں

    اس موسم کا کیا ہے پرسوں

    نرسوں یہ بھی چل ہی دے گا

    ایک گلہ بس تم سے ہے کہ

    اس موسم میں آئے ہو جب

    خود کو ہم بہلا بھی چکے ہیں

    گھر کے ہر کونے سے اب بھی

    مہک ہماری چنتے ہو گے

    یادوں کے پشمینہ سے تم

    کل کو پل پل بنتے ہو گے

    لیکن سچ تو یہ ہے ساتھی

    ہم تو کب کے جا بھی چکے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY