اب کسی اندھے سفر کے لیے تیار ہوا چاہتا ہے

انجم عرفانی

اب کسی اندھے سفر کے لیے تیار ہوا چاہتا ہے

انجم عرفانی

MORE BYانجم عرفانی

    اب کسی اندھے سفر کے لیے تیار ہوا چاہتا ہے

    اک ذرا دیر میں رخصت ترا بیمار ہوا چاہتا ہے

    آخری قسط بھی سانسوں کی چکا دے گا چکانے والا

    زندگی قرض سے تیرے وہ سبکبار ہوا چاہتا ہے

    راز سر بستہ سمجھتے رہے اب تک جسے اہل دانش

    منکشف آج وہی راز سر دار ہوا چاہتا ہے

    دل وحشی کے بہلنے کا نہیں ایک بھی سامان یہاں

    محفل زہد مزاجاں سے یہ بیزار ہوا چاہتا ہے

    دیکھ لینی تھی تجھے سینۂ آفت زدگاں کی سختی

    تیرا ہر تیر ہدف کار ہی بے کار ہوا چاہتا ہے

    پھیلتے شہروں کے جنگل میں یہ غاروں کی طرح تنگ مکاں

    خون میں وحشئ خوابیدہ بھی بے دار ہوا چاہتا ہے

    درد دل بانٹتا آیا ہے زمانے کو جو اب تک انجمؔ

    کچھ ہوا یوں کہ وہی درد سے دو چار ہوا چاہتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY