اب میں خود کو آزمانا چاہتی ہوں

زینت شیخ

اب میں خود کو آزمانا چاہتی ہوں

زینت شیخ

MORE BYزینت شیخ

    اب میں خود کو آزمانا چاہتی ہوں

    غم میں کھل کر مسکرانا چاہتی ہوں

    یہ تماشہ بھی دکھانا چاہتی ہوں

    آگ پانی میں لگانا چاہتی ہوں

    ہجرتوں کا بوجھ اب اٹھتا نہیں ہے

    مستقل کوئی ٹھکانا چاہتی ہوں

    دشمنوں کا امتحاں میں لے چکی ہوں

    دوستوں کو آزمانا چاہتی ہوں

    مجھ کو زینتؔ سونے دیتی ہی نہیں ہیں

    ان کی یادوں کو بھلانا چاہتی ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے