اب شہر میں کہاں رہے وہ با وقار لوگ

فضا ابن فیضی

اب شہر میں کہاں رہے وہ با وقار لوگ

فضا ابن فیضی

MORE BYفضا ابن فیضی

    INTERESTING FACT

    (شاخسار، کٹک)

    اب شہر میں کہاں رہے وہ با وقار لوگ

    مل کر خود اپنے آپ سے ہیں شرمسار لوگ

    ہاتھوں میں وقت کے تو کوئی سنگ بھی نہ تھا

    کیوں ٹوٹ کر بکھر گئے آئینہ وار لوگ

    اپنے دکھوں پہ طنز کوئی کھیل تو نہ تھا

    زخموں کو پھول کہہ گئے ہم وضع دار لوگ

    بیٹھے ہیں رنگ رنگ اجالے تراشنے

    رکھ کر لہو کی شمع سر رہ گزار لوگ

    کچھ سادگیٔ طبع تھی کچھ مصلحت کا جبر

    کانٹوں کو پوجتے رہے باغ و بہار لوگ

    آب و ہواۓ شہر جنوں خیز تھی بہت

    دامن نہیں تھے پھر بھی ہوئے تار تار لوگ

    پھونکا ہمیں تو نرم شگوفوں کی اوس نے

    جیتے ہیں کیسے دل میں چھپا کر شرار لوگ

    مآخذ:

    • کتاب : 1971 ki Muntakhab Shayri (Pg. 81)
    • Author : Kumar Pashi, Prem Gopal Mittal
    • مطبع : P.K. Publishers, New Delhi (1972)
    • اشاعت : 1972

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY